سوال
بندہ جب پاکستان یا انڈیا و بنگلہ دیش وغیرہ ملکوں سے جائے عمرہ کرنے تو ایک عمرہ کرنے کے بعد دوسرا عمرہ کرنے کے لیے احرام کہاں سے باندھے؟
جواب و تحقیق
اس سوال کے جواب میں یہ بحث نہیں کی جائے گی کہ ایک سفر میں متعدد عمرے کرنا بہتر ہے یا واحد عمرہ کرنا۔ اس پر تحقیق کسی اور وقت فراہم کی جائے گی، ان شاء اللہ۔
بہر کیف اس مخصوص سوال کے حوالے سے دو تین باتیں یاد رکھیں:
نمبر ایک: کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ایک عمرہ کرنے کے بعد دوسرا عمرہ کرنا ہو تو پہلے مدینہ منورہ جائے اور وہاں سے عمرہ کے لیے آئے اور ذوالحلیفہ سے احرام باندھے۔ یہ موقف بہت کمزور ہے، اس لیے کہ دوسرا عمرہ کرنے کے لیے سپیشل مدینہ منورہ جانا اس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ ہاں ویسے چلا جائے مدینہ منورہ تو وہاں سے مکہ مکرمہ آنا ہو اور عمرہ کا ارادہ ہو تو پھر ذوالحلیفہ سے احرام باندھ کر آئے گا۔
نمبر دو: ایک بندہ عمرہ کر کے مکہ مکرمہ میں ہی موجود ہے تو اس کو دوسرا عمرہ کرنے کے لیے سپیشل مسجد عائشہ جانے کی کوئی دلیل نہیں۔ یہ اصل میں ایک خاص مسلئہ تھا جو آپ حدیث کی کتابوں میں دیکھ سکتے ہیں۔ باقی بہت سارے علماء مسجد عائشہ جانے والی بات کا فتویٰ دیتے ہیں لیکن میری تحقیق میں یہ صحیح نہیں ہے۔
میری تحقیق میں راجح موقف یہ ہے کہ اگر آدمی مکہ مکرمہ میں موجود ہے اور ایک عمرہ کر لینے کے بعد دوسرا عمرہ کرنے کے لیے وہ اپنی رہائش گاہ یعنی ہوٹل سے احرام باندھ کر عمرہ کر لے۔ میری دلیل درج ذیل حدیث ہے:
حدیث
حدثنا مسلم حدثنا وهيب حدثنا ابن طاؤس عن أبيه عن ابن عباس رضي اللّٰه عنهما أن النبي صلى اللّٰه عليه وسلم وقت لأهل المدينة ذا الحليفة ولأهل نجد قرن المنازل ولأهل اليمن يلملم هن لهن ولكل آت أتى عليهن من غير هم ممن أراد الحج والعمرة فمن كان دون ذلك فمن حيث أنشأ حتى أهل مكة من مكة
ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللّٰه عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰه علیہ وسلم نے مدینہ والوں کے لیے ذو الحلیفہ کو میقات بنایا، نجد والوں کے لیے قرن منازل کو اور یمن والوں کے لیے یلملم کو۔ یہ میقات ان ملکوں کے باشندوں کے لیے ہے اور دوسرے ان تمام لوگوں کے لیے بھی جو ان ملکوں سے ہو کر آئیں، اور حج اور عمرہ کا بھی ارداہ رکھتے ہوں۔ لیکن جو لوگ ان حدود کے اندر ہوں تو ان کی میقات وہی جگہ ہے جہاں سے وہ اپنا سفر شروع کریں، یہاں تک کہ مکہ والوں کی میقات مکہ ہی ہے۔
تخریج
- صحيح البخاري 1845
ھذا ما عندی واللّٰه اعلم باالصواب۔
قدوسی ریسرچ سینٹر