بیس رکعت نماز تراویح کے دلائل
بیس رکعت نماز تراویح پر پیش کیے جانے والے احناف کے دلائل کا علمی وتحقیقی جائزہ پیش خدمت ہے:
احناف کی دلیل نمبر 1
روایت
حدثنا يزيد بن هارون قال أنا إبراهيم بن عثمان عن الحكم عن مقسم عن ابن عباس أن رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم كان يصلي في رمضان عشرين ركعة والوتر
السنن الكبرى للبيهيقي رقم 4286 "فی غیر جماعة" کے الفاظ ہیں، اور امام ابن عدی رحمہ اللّٰه، اور امام ذھبی رحمہ اللّٰه دونوں نے "غیر جماعۃ" کے الفاظ نقل کئے ہیں۔
ترجمہ
سیدنا عبداللّٰه بن عباس رضی اللّٰه عنہ کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم رمضان میں جماعت کے بغیر بیس رکعات پڑھتے تھے۔
تنبیہ
اس روایت کے مطابق نبی کریم صلی اللّٰه علیہ وسلم بیس رکعات پڑھتے تھے وہ بھی بغیر جماعت کے، لہذا حنفیوں کو بھی بغیر جماعت کے بیس رکعات پڑھنی چاہیے نہ کہ جماعت کے ساتھ۔
تحقیق
سند کی صرف مرکزی علت پیش کرتا ہوں: سند میں ابراھیم بن عثمان ابو شیبہ الکوفی متروک الحدیث راوی ہے، درج ذیل آئمہ محدثین نے جرح کر رکھی ہے:
- امام نسائی رحمہ اللّٰه نے متروک الحدیث کہا ہے (الضعفاء والمتروکین للنسائی 1/12)
- امام ابن شاھین رحمہ اللّٰه نے ضعیف کہا ہے (تاریخ اسماء الضعفاء والکذابین 1/50)
- امام عقیلی رحمہ اللّٰه نے اس کا ذکر الضعفاء میں کیا ہے (الضعفاء الکبیر للعقیلی 1/59)
- امام ابو زرعہ الرازی رحمہ اللّٰه نے ضعیف کہا ہے (الضعفاء لابی زرعہ الرازی 2/598)
- امام ترمذی رحمہ اللّٰه نے منکر الحدیث کہا ہے (سنن ترمذی رقم الحدیث 1026)
- امام بزار رحمہ اللّٰه نے لین الحدیث کہا ہے ، ایک دوسرے مقام پر کہا ہے وکان کوفیا ردیء الحفظ (مسند البزار البحر الزخار رقم الحدیث 4899، 4900)
- امام بیہقی رحمہ اللّٰه نے ضعیف کہا ہے (السنن الکبری للبیہقی رقم الحدیث 4286)
- اسی روایت کے تحت علامہ ھیثمی رحمہ اللّٰه نے متروک الحدیث کہا ہے (مجمع الزوائد 4/245)
- امام ابو حاتم رحمہ اللّٰه نے ضعیف الحدیث کہا ہے (علل الحدیث لابن ابی حاتم رقم الحدیث 2365)
- امام بخاری رحمہ اللّٰه نے کہا سکتوا عنہ ، یہ امام بخاری کی سخت جرح ہے (الضعفاء الصغیر للبخاری رقم 5، التاریخ الکبیر للبخاری 1/310، التاریخ الاوسط للبخاری 2/170)
اس کے علاوہ
- امام ابن حبان رحمہ اللّٰه،
- امام ابن عدی رحمہ اللّٰه،
- امام دارقطنی رحمہ اللّٰه،
- محمد بن طاہر المقدسی رحمہ اللّٰه،
- خطیب بغدادی رحمہ اللّٰه،
- امام یحیی بن معین رحمہ اللّٰه،
- جوزجانی رحمہ اللّٰه،
- علامہ ابن جوزی رحمہ اللّٰه،
- علامہ سیوطی رحمہ اللّٰه،
- امام عبداللّٰه بن مبارک رحمہ اللّٰه،
- حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللّٰه
نے جرح کی ہے۔
نتیجہ
لہذا یہ روایت سخت ضعیف بلکہ بعض نے موضوع بھی کہا ہے
مختصر تخریج
- مصنف ابن ابی شیبۃ رقم الحدیث 7692
- المعجم الاوسط للطبرانی رقم الحدیث 798
- السنن الکبری للبیہقی رقم الحدیث 4286
روایت ابن عباس رضی اللّٰه عنہ پر آئمہ محدثین کا تبصرہ
سیدنا عبداللّٰه بن عباس رضی اللّٰه عنہ نے کہا کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم رمضان میں جماعت کے بغیر بیس رکعات پڑھتے تھے
- امام بیہقی رحمہ الله نے اس روایت پر جرح کی ہے (السنن الکبری للبیہقی رقم الحدیث 4286)
- حافظ ابن عبد البر رحمہ الله نے بھی اس روایت پر جرح کی ہے (التمھید لما فی المؤطا من المعانی والاسانید لابن عبد البر 8/115، الاستذکار لابن عبد البر 2/69)
- حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ الله نے کہا فاسنادہ ضعیف، اور یہ بھی فرمایا کہ یہ حدیث عائشہ رضی الله عنہا جو صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں ہے اس کے بھی معارض ہے (فتح الباری شرح صحیح البخاری 4/254)
- ابن بطال ابو الحسن علی بن خلف بن عبد الملک رحمہ الله نے اس روایت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے ابراھیم بن عثمان کے بارے وھو ضعیف ، فلا حجۃ فی حدیثہ (شرح صحیح البخاری لابن بطال 3/141)
- حافظ ابن ملقن رحمہ الله نے اس روایت پر جرح کی ہے (البدر المنیر لابن الملقن4/350)
- علامہ ھیثمی رحمہ الله نے اس روایت کے بارے کہا، رواہ الطبرانی فی الکبیر والاوسط ، وفیہ ابو شیبہ ابراھیم ، وھو ضعیف (مجمع الزوائد 3/172)
- امام ابن عدی رحمہ الله نے اس روایت کو ابراھیم بن عثمان کے ترجمے میں ذکر کیا ہے اور اس کی روایات کو غیر صالح کہا ہے (الکامل لابن عدی 1/391)
- خطیب بغدادی رحمہ الله نے بھی اس روایت پر جرح کی ہے (تاریخ بغداد للخطیب البغدادی 7/21)
- حافظ مزی رحمہ الله کے نزدیک یہ روایت منکر ہے (تھذیب الکمال 2/149)
- امام ذھبی رحمہ الله کے نزدیک بھی یہ روایت غیر ثابت ہے (میزان الاعتدال للذھبی 1/48)
- حافظ بوصیری رحمہ الله نے نے اس روایت کو نقل کرنے کے بعد کہا ہے، ومدار اسانیدھم علی ابراھیم بن عثمان ابی شیبۃ وھو ضعیف (اتحاف الخیرۃ المھرۃ بزوائد المسانید العشرۃ 2/383،384)
- حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ نے التلخیص الحبیر میں بھی اس روایت پر جرح کی ہے (التلخیص الحبیر لابن حجر عسقلانی 2/54)
- علامہ زیلعی حنفی رحمہ الله نے بھی یہ روایت ذکر کرنے کے بعد اس پر جرح کی ہے۔ ابراھیم بن عثمان کو متفق علی ضعفہ کہا ہے (نصب الرایہ 2/153)
احناف کی دلیل نمبر 2
روایت
حدثنا أبو الحسن علي بن محمد بن أحمد القصري الشيخ الصالح رحمه اللّٰه حدثنا عبد الرحمن بن عبد المؤمن العبد الصالح قال أخبرني محمد بن حميد الرازي حدثنا عمر بن هارون حدثنا إبراهيم بن الحناز عن عبد الرحمن عن عبد الملك بن عتيك عن جابر بن عبد اللّٰه قال
خرج النبي صلى اللّٰه عليه وسلم ذات ليلة في رمضان فصلى الناس أربعة وعشرين ركعة وأوتر بثلاثة
ترجمہ
سیدنا جابر بن عبداللّٰه رضی اللّٰه عنہما فرماتے ہیں کہ
رمضان المبارک میں ایک رات نبی کریم صلی اللّٰه علیہ وسلم باہر تشریف لائے اور صحابہ کرام رضوان اللّٰه علیہم کو چوبیس رکعتیں پڑھائیں اور تین رکعات وتر پڑھے۔
تخریج
- تاریخ جرجان رقم الحدیث 556
تحقیق
یہ روایت موضوع ہے
-
سند میں عمر بن ھارون البلخی کذاب و متروک راوی ہے، درج ذیل محدثین نے جرح کی ہے:
- امام یحیی بن معین رحمہ اللّٰه،
- امام ابن شاھین رحمہ اللّٰه،
- امام ابو نعیم الاصبھانی رحمہ اللّٰه،
- امام نسائی رحمہ اللّٰه،
- امام ابن عدی رحمہ اللّٰه،
- امام ذھبی رحمہ اللّٰه،
- جوزجانی رحمہ اللّٰه،
- علامہ ابن جوزی رحمہ اللّٰه،
- علامہ سیوطی رحمہ اللّٰه،
- امام بیہقی رحمہ اللّٰه،
- امام دارقطنی رحمہ اللّٰه،
- حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللّٰه وغیرہ
-
محمد بن حمید الرازی ضعیف راوی ہے، درج ذیل محدثین نے جرح کی ہے:
- امام احمد بن حنبل رحمہ اللّٰه،
- امام نسائی رحمہ اللّٰه،
- جوزجانی رحمہ اللّٰه،
- امام ابن حبان رحمہ اللّٰه،
- حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللّٰه،
- امام بخاری رحمہ اللّٰه،
- امام یعقوب بن ابی شیبہ رحمہ اللّٰه،
- امام ابو زرعہ الرازی رحمہ اللّٰه،
- امام صالح جزرۃ رحمہ اللّٰه،
- امام عقیلی رحمہ اللّٰه،
- جورقانی رحمہ اللّٰه،
- امام ذھبی رحمہ اللّٰه،
- علامہ ابن جوزی رحمہ اللّٰه،
- علامہ سیوطی رحمہ اللّٰه
احناف کی دلیل نمبر 3
روایت
مالك، عن يزيد بن رومان أنه قال كان الناس يقومون في زمان عمر بن الخطاب في رمضان بثلاث وعشرين ركعة
ترجمہ
یزید بن رومان بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللّٰه عنہ کے زمانے میں لوگ تیئیس رکعات پڑھتے تھے
تخریج
- موطا امام مالک رقم الحدیث 380
- السنن الکبری للبیہقی رقم الحدیث 4289
- شعب الایمان للبیہقی رقم الحدیث 3000
- معرفۃ السنن والآثار للبیہقی رقم الحدیث 5411
تحقیق
وسندہ ضعیف
سند میں انقطاع ہے۔ یزید بن رومان نے سیدنا عمر رضی اللّٰه عنہ کو نہیں پایا، مطلب سماع ولقاع نہیں ہے۔
- امام بیہقی رحمہ الله نے کہا: یزید بن رومان عن عمر بن خطاب مرسل۔
- امام نووی رحمہ الله کے نزدیک یہ روایت ضعیف ہے فرماتے ہیں: ورواہ البیہقی لکنہ مرسل فان یزید بن رومان لم یدرک عمر (المجموع شرح المھذب 4/33)
- علامہ زیلعی حنفی رحمہ الله نے اس روایت کو منقطع کہا ہے: ویزید بن رومان لم یدرک عمر (نصب الرایہ للزیلعی 2/154)
- حافظ ابن ملقن رحمہ الله کے نزدیک بھی یہ روایت مرسل ہے (البدر المنیر لابن الملقن 4/351)
- علامہ بدرالدین عینی حنفی رحمہ الله نے اس روایت کو منقطع یعنی ضعیف کہا ہے، لکھتے ہیں: لم یدرک عمر فیکون منقطعا (عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری 7/178)
مولانا الیاس گھمن کے ایک اشتہار میں پیش کردہ بیس رکعت تراویح کی روایت
پس منظر
مولانا الیاس گھمن حنفی دیوبندی تقلیدی صاحب کا بیس رکعت تراویح پر اشتہار ایک بھائی نے سینڈ کیا اور اس کا جواب مانگا۔ یہاں مولانا الیاس گھمن کی پیش کردہ روایت کا تحقیقی جائزہ پیش خدمت ہے، جس سے اشتہار کی حقیقت واضح ہو جائے گی۔
روایت
قال الإمام الحافظ حمزه بن يوسف السهمي حدثنا أبو الحسن علي بن محمد بن أحمد القصري الشيخ الصالح رحمه اللّٰه حدثنا عبد الرحمن بن عبد المؤمن العبد الصالح قال أخبرني محمد بن حميد الرازي حدثنا عمر بن هارون حدثنا إبراهيم بن الحناز عن عبد الرحمن عن عبد الملك بن عتيق عن جابر بن عبد اللّٰه قال
خرج النبي صلى اللّٰه عليه وسلم ذات ليلة في رمضان فصلى الناس أربعة وعشرين ركعة وأوتر بثلاثة
تاریخ جرجان 1/317، رقم الحدیث 556
ترجمہ:
حضرت جابر بن عبداللّٰه فرماتے ہیں کہ
حضور صلی اللّٰه علیہ وسلم رمضان شریف کی ایک رات تشریف لائے اور لوگوں کو چار رکعات فرض، بیس رکعات نماز تراویح اور تین رکعات وتر پڑھائے۔
تحقیق
وسندہ ضعیف جدا
سند میں دو بڑی علتیں ہیں:
1. محمد بن حمید الرزی (کذاب راوی)
درج ذیل آئمہ نے جرح کی ہے:
-
حافظ ابن القطان الفاسی رحمہ اللّٰه (بیان الوھم والایھام فی کتاب الاحکام 4/412)
-
امام ابو زرعہ الرازی نے کذاب کہا ہے (تاریخ بغداد للخطیب البغدادی 2/263، ترجمہ 682)
-
حافظ ابن ملقن رحمہ الله نے جرح کی ہے (البدر المنیر 1/374)
-
علامہ ھیثمی رحمہ الله نے ضعیف کہا ہے (مجمع الزوائد 5/47)
-
ان کے علاوہ، مندرجہ ذیل آئمہ نے بھی جرح کی ہے:
- امام ابن حبان،
- امام احمد بن حنبل،
- جوز جانی،
- بوصیری،
- امام بخاری،
- امام ذہبی،
- امام یعقوب بن شیبہ،
- امام عقیلی،
- حافظ ابن حجر عسقلانی،
- امام ابن عدی، وغیرہ۔
2. عمر بن ہارون
اس پر درج ذیل آئمہ کرام رحمہم اللّٰه نے جرح کی ہے:
- امام یحیی بن معین
- امام ابو زرعہ الرازی
- امام عقیلی
- امام ذہبی
- جوز جانی
- امام عجلی
- حافظ ابن حجر عسقلانی
- امام نسائی
- امام ابن حبان
- امام ابن شاہین
- امام دارقطنی
- امام ابو نعیم الاصبھانی
- امام خلیلی
- علامہ ابن جوزی
- حافظ ابن القطان الفاسی
- امام بیہقی
اور بھی کئی آئمہ نے جرح کی ہے۔
نتیجہ
اس سے مولانا الیاس گھمن تقلیدی صاحب کا علمی مقام سامنے آجاتا ہے۔
بیس رکعت تراویح کے صحابہ سے آثار؟
روایت
حَدَّثَنَا حُمَیْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ حَسَنٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِیزِ بْنِ رُفَیْعٍ ، قَالَ :
کَانَ أُبَیّ بْنُ کَعْبٍ یُصَلِّی بِالنَّاسِ فِی رَمَضَانَ بِالْمَدِینَۃِ عِشْرِینَ رَکْعَۃً وَیُوتِرُ بِثَلاَثٍ۔
ترجمہ:
حضرت عبدا لعزیز بن رافع فرماتے ہیں کہ
حضرت ابی بن کعب رمضان میں مدینہ میں ہمیں بیس رکعات تراویح اور تین رکعات وتر پڑھایا کرتے تھے۔
تخریج
ابن ابی شیبہ، کتاب: جمعہ کا بیان، باب: تراویح کی رکعات کا بیان، حدیث نمبر: 7766
تحقیق
یہ روایت منقطع ہے۔ عبد العزیز بن رفیع نے ابی بن کعب رضی اللّٰه عنہ کو نہیں پایا۔
تنبیہ
بیس رکعات تراویح پڑھنے یا پڑھانے کے حوالے سے کوئی ایک روایت بھی ثابت نہیں ہے، نہ مرفوع اور نہ ہی موقوف۔
گیارہ رکعات نماز تراویح کے دلائل
دلیل نمبر 1
حدیث
حدثنا عبد الله بن يوسف قال أخبرنا مالك عن سعيد بن أبي سعيد المقبري عن أبي سلمة بن عبد الرحمن أنه أخبره أنه سأل عائشة رضي الله عنها كيف كانت صلاة رسول الله صلى الله عليه وسلم في رمضان فقالت ما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يزيد في رمضان ولا في غيره على إحدى عشرة ركعة....الخ
ترجمہ
ابو سلمہ بن عبد الرحمن نے سیدہ امی جان عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا سے سوال کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں نماز تراویح کیسے پڑھتے تھے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا نے فرمایا چاہے رمضان کا مہینہ ہو یا غیر رمضان، گیارہ رکعات سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے
تنبیہ
ترجمہ نماز تروایح اس لیے کیا ہے کہ نماز تہجد اور تراویح ایک ہی نماز کے نام ہیں
اس نماز کے کئی نام ہیں، مثلاً قیام اللیل، قیام رمضان، صلاۃ اللیل، صلاۃ رمضان، وغیرہ۔ رمضان میں معروف نام نماز تراویح ہے، اور باقی گیارہ مہینوں میں معروف نام نماز تہجد ہے۔
چند حوالے
- صحیح بخاری رقم الحدیث 1147
- صحیح مسلم رقم الحدیث 738
- صحیح ابن حبان رقم الحدیث 2613
- صحیح ابن خزیمہ رقم الحدیث 1166
- اس کے علاوہ مندرجہ ذیل کتب میں آتی ہے:
- سنن ترمذی
- سنن ابی داود
- السنن الکبری للبیہقی، وغیرہ
دلیل نمبر 2
حدیث
مالك عن محمد بن يوسف عن السائب بن يزيد أنه قال، أمر عمر بن الخطاب رضي الله عنه أبي بن كعب وتميما الداري رضي الله عنهما أن يقوما للناس بإحدى عشرة ركعة
ترجمہ
سیدنا عمر بن خطاب رضی الله عنہ نے ابی بن کعب اور تمیم داری رضی الله عنھما کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو گیارہ رکعات پڑھائیں
تخریج
- مؤطا امام مالک 2/158، رقم الحدیث 379
- شرح معانی الآثار رقم الحدیث 1740
- معرفۃ السنن والآثار للبیہقی رقم الحدیث 5413
- شرح السنہ للبغوی 4/120
تحقیق
وسندہ صحیح
علامہ نیموی حنفی نے بھی اس روایت کے متعلق اسنادہ صحیح کہا ہے (آثار السنن صفحہ 392)۔ یہ الزامی جواب ہے۔
دلیل نمبر 3
حدیث
حدثنا أبو محمد بن عبد الله بن يونس قال ثنا بقي بن مخلد رحمه الله ، قال ثنا أبو بكر قال ثنا يحيى بن سعيد القطان عن محمد بن يوسف أن السائب أخبره أن عمر جمع الناس على أبي وتميم فكان يصليان إحدى عشرة ركعة...الخ
ترجمہ
سیدنا عمر رضی الله عنہ نے لوگوں کو ابی بن کعب اور تمیم داری رضی الله عنھما پر جمع کیا وہ دونوں گیارہ رکعات پڑھاتے تھے
تخریج
- مصنف ابن ابی شیبۃ رقم الحدیث 7671
- تاریخ المدینہ المنورہ 1/713
تحقیق
وسندہ صحیح
ھذا ما عندی واللہ اعلم باالصواب
قدوسی ریسرچ سینٹر