شعبان کے روزے: ایک جامع تحقیق

31 جنوری، 2026   •   حافظ عبد الخالق قدوسی حفظہ اللّٰه

پندرہویں شعبان کی رات کو قیام اور دن کو روزہ رکھنے کی شرعی حیثیت

حدثنا الحسن بن علي الخلال حدثنا عبد الرزاق أنبأنا ابن أبي سبرة عن إبراهيم بن محمد عن معاوية بن عبد اللّٰه بن جعفر عن أبيه عن علي بن أبي طالب قال قال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم إذا كانت ليلة النصف من شعبان فقوموا ليلها وصوموا نهارها فإن اللّٰه ينزل فيها لغروب الشمس إلى سماء الدنيا فيقول ألا من مستغفر لي فأغفر له ألا مسترزق فأرزقه ألا مبتلى فأعافيه ألا كذا ألا كذا حتى يطلع الفجر

ترجمہ

سیدنا علی رضی اللّٰه عنہ سے روایت ہے رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم نے فرمایا جب نصف شعبان کی رات آئے تو اس رات کو قیام کرو اور دن کو روزہ رکھو۔ اس رات اللّٰه تعالیٰ سورج کے غروب ہوتے ہی پہلے آسمان پر نزول فرما لیتا ہے اور صبح صادق طلوع ہونے تک کہتا رہتا ہے: کیا کوئی مجھ سے بخشش مانگنے والا ہے کہ میں اسے معاف کروں، کیا کوئی رزق طلب کرنے والا ہے کہ اسے رزق دوں، کیا کوئی کسی بیماری یا مصیبت میں مبتلا ہے کہ میں اسے عافیت فرمادوں۔

تخریج الحدیث

  • سنن ابن ماجہ رقم الحدیث 1388
  • اخبار مکۃ للفاکھی رقم الحدیث 1837
  • امالی ابن بشران رقم الحدیث 703
  • شعب الایمان للبیہقی رقم الحدیث 3542
  • فضائل الاوقات للبیہقی رقم الحدیث 24
  • تفسیر الثعلبی 8/349
  • الترغیب والترھیب لقوام السنۃ الاصبھانی رقم الحدیث 1860
  • میزان الاعتدال للذھبی 4/504

تحقیق الحدیث

اسنادہ موضوع

سند میں ابو بکر بن ابی سبرہ راوی ہے جو حدیثیں وضع کرتا تھا، اور اس کا استاد ابراھیم بن محمد اس سے مراد اگر ابراھیم بن محمد بن ابی یحییٰ ہے تو وہ متروک الحدیث ہے اور اگر اس کے علاوہ کوئی اور ہے تو پھر مجھول ہے۔

امام احمد بن حنبل رحمہ اللّٰه، امام ابن معین رحمہ اللّٰه، ابن ابی سبرہ کو حدیثیں وضع کرنے والا کہا ہے۔

حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللّٰه نے وضع حدیث کی وجہ سے پھینک دیا۔

ابن ابی سبرہ پر مفصل تحقیق کے لیے تاریخ دمشق لابن عساکر 66/22 رقم 8385 کا مطالعہ کریں۔

امام ابن عدی رحمہ اللّٰه نے ابن ابی سبرہ پر سخت جرح کی ہے، وعامۃ ما یرویہ غیر محفوظ روی عنہ بن جریج احادیث وھو فی جملۃ من یضع الحدیث۔

الکامل لابن عدی رقم ترجمہ 2200

امام ابن حبان رحمہ اللّٰه، امام ابن معین رحمہ اللّٰه، امام ابو زرعہ رازی رحمہ اللّٰه، امام بخاری رحمہ اللّٰه، امام علی بن مدینی رحمہ اللّٰه، امام دارقطنی رحمہ اللّٰه، علامہ ابن جوزی رحمہ اللّٰه، امام ذھبی رحمہ اللّٰه، امام یعقوب بن سفیان الفسوی رحمہ اللّٰه وغیرہ نے جرح کی ہے۔

تاریخ بغداد للخطیب البغدادی 16/536

لہذا یہ روایت موضوع ہے۔


نصف شعبان کے بعد روزہ رکھنا واقعی منع ہے؟

حدثنا قتيبة قال حدثنا عبد العزيز بن محمد عن العلاء بن عبد الرحمن عن أبيه عن أبي هريرة قال قال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم إذا بقي نصف من شعبان فلا تصوموا

ترجمہ

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللّٰه عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم نے فرمایا: جب آدھا شعبان رہ جائے تو روزہ نہ رکھو۔

تخریج الحدیث

  • سنن ترمذی رقم الحدیث 738
  • سنن ابی داود رقم الحدیث 2237
  • سنن ابن ماجہ رقم الحدیث 1651
  • سنن دارمی رقم الحدیث 1747

تحقیق الحدیث

ھذا حدیث منکر

سند میں راوی العلاء بن عبد الرحمن کی منکرات میں سے ہے۔

اس روایت کو درج ذیل آئمہ محدثین نے منکر وغیرہ کہا ہے:

  • امام ابو زرعہ الرازی رحمہ اللّٰه نے اس روایت کو منکر کہا ہے (الضعفاء لابی زرعہ الرازی 2/388)
  • امام خلیلی رحمہ اللّٰه نے بھی اس روایت پر جرح کی ہے
  • امام احمد بن حنبل رحمہ اللّٰه نے کہا یہ حدیث منکر ہے، اور یہ بھی کہا ھو غیر محفوظ
  • امام عبد الرحمن بن مھدی رحمہ اللّٰہ بھی اس روایت پر جرح کرتے تھے (احادیث معلۃ ظاھرھا الصحۃ 1/425)
  • مسائل الامام احمد روایۃ ابی داود رقم الحدیث 2002
  • المجموع شرح المھذب 6/399
  • المغنی لابن قدامہ 3/106
  • الارشاد فی معرفۃ علماء الحدیث للخلیلی 1/218
  • امام ابن عدی رحمہ اللّٰه نے اس روایت کو منکر کہا ہے (الکامل لابن عدی ترجمہ، عبد الرحمن بن ابراھیم مدنی)
  • ابن عبد الھادی حنبلی رحمہ اللّٰه کے نزدیک بھی یہ روایت منکر ہے (المحرر فی الحدیث رقم 646)
  • علامہ زیلعی حنفی رحمہ اللّٰه نے بھی اس روایت پر جرح کی ہے

صحیح بخاری وغیرہ کی حدیث سے ثابت ہے کہ نصف شعبان کے بعد روزہ رکھا جاسکتا ہے، ان شاءاللّٰه عزوجل جلد ہی وہ حدیث بھی آپ کے سامنے ہو گی۔

تنبیہ

العلاء بن عبد الرحمن کی جرح و تعدیل سے قطع نظر لیکن یہ روایت العلاء بن عبد الرحمن کی منکر ہے۔


شعبان کے مہینے میں روزے رکھنے کی فضیلت

حدثنا عبد اللّٰه بن يوسف أخبرنا مالك عن أبي النضر عن أبي سلمة عن عائشة رضي اللّٰه عنها قالت كان رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم يصوم حتى نقول لا يفطر ويفطر حتى نقول لا يصوم فما رأيت رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم استكمل صيام شهر إلا رمضان وما رأيته أكثر صياما منه في شعبان

ترجمہ

سیدہ عائشہ رضی اللّٰه عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم نفل روزہ رکھنے لگتے تو ہم کہتے کہ اب آپ صلی اللّٰه علیہ وسلم روزہ رکھنا چھوڑیں گے ہی نہیں اور جب روزہ چھوڑ دیتے تو ہم کہتے کہ اب آپ روزہ رکھیں گے ہی نہیں۔ میں نے رمضان کو چھوڑ کر رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم کو کبھی پورے مہینے کا نفلی روزہ رکھتے نہیں دیکھتا اور جتنے روزے آپ شعبان میں رکھتے میں نے کسی مہینہ میں اس سے زیادہ روزے رکھتے آپ کو نہیں دیکھا۔

تخریج الحدیث

  • صحیح بخاری رقم الحدیث 1969
  • صحیح مسلم رقم الحدیث 1156

سالانہ ڈائری کا اللّٰه کی پیش ہونا

سیدنا اسامہ بن زید رضی اللّٰه عنہ سے منقول ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللّٰه علیہ وسلم سے عرض کیا: اے اللّٰه کے رسول! میں نے آپ کو کسی مہینے میں اتنے روزے رکھتے نہیں دیکھا جتنے آپ شعبان میں رکھتے ہیں، کیا وجہ ہے؟ آپ نے فرمایا: یہ وہ مہینہ ہے کہ رجب اور رمضان المبارک کے درمیان آنے کی وجہ سے لوگ اس سے غفلت کر جاتے ہیں، حالانکہ یہ وہ مہینہ ہے کہ اس اس میں رب العالمین کے ہاں انسانوں کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ میرے عمل پیش ہوں تو میں روزے سے ہوں۔

  • سنن نسائی رقم الحدیث 2359
  • وسندہ حسن

استقبال رمضان کا روزہ رکھنا منع ہے سوائے اس کے جس کی روزہ رکھنے کی عادت ہو

عن أبي هريرة رضي اللّٰه عنه عن النبي صلى اللّٰه عليه وسلم قال لا يتقدمن أحدكم رمضان بصوم يوم أو يومين إلا أن يكون رجل كان يصوم صومه فليصم ذلك اليوم

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللّٰه عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللّٰه علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص رمضان سے پہلے، مطلب شعبان کی آخری تاریخوں میں، ایک یا دو دن پہلے کے روزے نہ رکھے البتہ اگر کسی کو ان میں روزے رکھنے کی عادت ہو تو وہ اس دن بھی روزہ رکھ لے۔

تخریج الحدیث

  • صحیح بخاری رقم الحدیث 1914
  • صحیح مسلم رقم الحدیث 1082

ھذا ما عندی واللّٰه اعلم باالصواب