فہرست
فطر کا مطلب روزہ افطار کرنا یا ترک کرنا بھی ہے۔
صدقۃ الفطر کی فرضیت کے دلائل
حدیث
عن ابن عمر رضي اللّٰه عنھما قال فرض رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم زكاة الفطر صاعا من تمر أو صاعا من شعير على العبد والحر والذكر والأنثى والصغير والكبير من المسلمين وأمر بها أن تؤدى قبل خروج الناس إلى الصلاة.
ترجمہ
سیدنا عبداللّٰه بن عمر رضی اللّٰه عنہما نے بیان کیا کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم نے فطر کی زکوۃ یعنی صدقہ فطر، ایک صاعا کھجور یا ایک صاعا جو فرض قرار دی تھی، غلام ، آزاد ، مرد، عورت، چھوٹے اور بڑے سب مسلمانوں پر، آپ کا حکم یہ تھا کہ نماز عید کے لیے جانے سے پہلے یہ صدقہ ادا کردیا جائے۔
تخریج
- صحیح بخاری رقم الحدیث 1503
- صحیح مسلم رقم الحدیث 984
حدیث
عن قيس بن سعد قال أمرنا رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم بصدقة الفطر قبل أن تنزل الزكاة فلما نزلت الزكاة لم يأمرنا ولم ينهنا ونحن نفعله.
ترجمہ
سیدنا قیس بن سعد بن عبادہ رضی اللّٰه عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا زکاۃ کا حکم نازل ہونے سے پہلے رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم نے ہمیں صدقہ فطر ادا کرنے کا حکم دیا تھا جب زکاۃ کے احکام نازل ہو گئے تو آپ نے ہمیں صدقہ فطر کا دوبارہ حکم نہیں دیا اور منع بھی نہیں کیا البتہ ہم لوگ اس کی ادائیگی کرتے ہیں۔
تخریج
- سنن ابن ماجہ رقم الحدیث 1828
- سنن نسائی رقم الحدیث 2507
- السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث 2298
- صحیح ابن خزیمہ رقم الحدیث 2394
- مستدرک حاکم رقم الحدیث 1491
تحقیق
اس روایت کو امام حاکم رحمہ اللّٰه ، امام ذھبی رحمہ اللّٰه ، امام ابن خزیمہ رحمہ اللّٰه ، صحیح کہا ہے۔
ان کے علاوہ محدث البانی رحمہ اللّٰه ، محدث زبیر علی زئی رحمہ اللّٰه ، اور شیخ الاعظمی رحمہ اللّٰه الجامع الکامل والے بھی اسنادہ صحیح فرماتے ہیں۔
اور یاد رہے کہ صدقہ فطر کے فرض ہونے پر، امام ابن المنذر رحمہ اللّٰه نے اجماع نقل کیا ہے۔ (الاجماع لابن المنذر 48)
صاع کا وزن
اس میں کافی اختلاف ہے لیکن راجح قول کے مطابق حجازی صاعا دو کلو چار چھٹانک کا ہوتا ہے اس کا اعشاری وزن تقریباً 2 کلو 100 گرام تقریباً بنتا ہے۔
صدقہ فطر میں غلا بھی دیا جاسکتا ہے، گندم ، جو ،کھجور ، پنیر ، منقہ ، یا نقدی بھی دی جاسکتی ہے۔
صدقہ فطر ایک جگہ سے دوسری جگہ بھی بھیجا جاسکتا ہے، مثلاً سعودی عرب ، انگلینڈ ، یا امریکا وغیرہ سے پاکستان بھیج سکتے ہیں، لیکن وہاں کے حساب سے، کئی افراد وہاں رہتے ہیں کماتے کھاتے ہیں اور صدقہ فطر پاکستان میں پاکستانی کرنسی کے اعتبار سے یہ بہت بڑا ظلم ہے ، اگر کوئی بھیجے تو وہاں کے حساب سے ہی بھیجے۔
صدقہ فطر کا مصرف
صدقہ فطر مساکین کو دینا چاہیئے، مدارس پر بھی لگ جاتا ہے۔
صدقہ فطر ادا کرنے کا صحیح وقت
نماز عید کے لیے جانے سے پہلے ادا کرنا چاہیے اگر نماز عید کے بعد ادا کریں گے تو عام صدقہ ہو گا، صدقہ فطر نہیں۔
صدقہ فطر کی فضیلت
نبی کریم صلی اللّٰه علیہ وسلم فرمایا صدقہ فطر دوران روزہ کوئی گناہ وغیرہ ہو جائے تو اس کو پاک کرتا ہے۔
روایت
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ فَرَضَ رَسُولُ اللَّهِ صلى اللّٰه عليه وسلم زَكَاةَ الْفِطْرِ طُهْرَةً لِلصَّائِمِ مِنَ اللَّغْوِ وَالرَّفَثِ وَطُعْمَةً لِلْمَسَاكِينِ مَنْ أَدَّاهَا قَبْلَ الصَّلاَةِ فَهِيَ زَكَاةٌ مَقْبُولَةٌ وَمَنْ أَدَّاهَا بَعْدَ الصَّلَاةِ فَهِيَ صَدَقَةٌ مِنَ الصَّدَقَاتِ.
ترجمہ
عبداللّٰه بن عباس رضی اللّٰه عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم نے صدقہ فطر صائم کو لغو اور بیہودہ باتوں سے پاک کرنے کے لیے اور مسکینوں کے کھانے کے لیے فرض کیا ہے ، لہٰذا جو اسے ( عید کی ) نماز سے پہلے ادا کرے گا تو یہ مقبول صدقہ ہو گا اور جو اسے نماز کے بعد ادا کرے گا تو وہ عام صدقات میں سے ایک صدقہ ہو گا۔
تخریج
سنن أبي داود (3/ 53) (1609)، سنن ابن ماجه (3/ 39) (1827)، مرشد ذوي الحجا والحاجة إلى سنن ابن ماجه والقول المكتفى على سنن المصطفى (10/ 530)، شرح سنن أبي داود للعباد (195/ 3)، النهاية في غريب الحديث والأثر (838)(366).
تحقیق
حکم وسندہ حسن۔
امام حاکم رحمہ اللّٰه نے صحیح کہا ہے، امام ذھبی رحمہ اللّٰه بھی صحیح کہا ہے۔
تنبیہ
فطرانہ شوال کا چاند نظر آ جائے اس وقت سے نماز عید کے لیے جانے سے پہلے ادا کرنا یہ وقت بہترین ہے۔
آگر کوئی دو تین دن پہلے عید سے ادا کردے تو کوئی حرج نہیں جائز ہے۔
روایت
فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ يُعْطِي عَنِ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ، حَتَّى إِنْ كَانَ يُعْطِي عَنْ بَنِيَّ، وَكَانَ ابْنُ عُمَرَ ـ رضى اللّٰه عنهما ـ يُعْطِيهَا الَّذِينَ يَقْبَلُونَهَا، وَكَانُوا يُعْطُونَ قَبْلَ الْفِطْرِ بِيَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ.
ترجمہ
ابن عمر رضی اللّٰه عنہما چھوٹے بڑے سب کی طرف سے یہاں تک کہ میرے (نافع) بیٹوں کی طرف سے بھی صدقہ فطر نکالتے تھے۔ ابن عمر رضی اللّٰه عنہما صدقہ فطر ہر فقیر کو جو اسے قبول کرتا، دے دیا کرتے تھے۔ اور لوگ صدقہ فطر ایک یا دو دن پہلے ہی دے دیا کرتے تھے۔
- صحیح بخاری رقم الحدیث 1511
ھذا ما عندی واللّٰه اعلم باالصواب۔
قدوسی ریسرچ سینٹر