نماز جس میں ازار ٹخنوں سے نیچے

27 اکتوبر، 2025   •   حافظ عبد الخالق قدوسی حفظہ اللہ

حدیث

حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ قَالَ بَيْنَمَا رَجُلٌ يُصَلِّي مُسْبِلًا إِزَارَہُ إِذْ قَالَ لَہُ رَسُولُ اللہِ ﷺ اذْہَبْ فَتَوَضَّأْ فَذَہَبَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ جَاءَ ثُمَّ قَالَ اذْہَبْ فَتَوَضَّأْ فَذَہَبَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ جَاءَ فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللہِ مَا لَكَ أَمَرْتَہُ أَنْ يَتَوَضَّأَ ثُمَّ سَكَتَّ عَنْہُ فَقَالَ إِنَّہُ كَانَ يُصَلِّي وَہُوَ مُسْبِلٌ إِزَارَہُ وَإِنَّ اللہَ تَعَالَی لَا يَقْبَلُ صَلَاةَ رَجُلٍ مُسْبِلٍ إِزَارَہُ

ترجمہ

سیدنا ابوہریرہ رضی اللّٰه عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک آدمی نماز پڑھ رہا تھا اور وہ اپنا تہ بند ٹخنوں سے نیچے لٹکائے ہوئے تھا۔ رسول اللّٰه ﷺ نے (دیکھا تو) اسے فرمایا "جاؤ اور وضو کر کے آؤ"۔ چنانچہ وہ گیا اور وضو کر کے آیا۔ آپ ﷺ نے اسے دوبارہ فرمایا "جاؤ اور وضو کر کے آؤ"۔ چنانچہ وہ گیا اور وضو کر کے آیا۔ تو ایک آدمی نے آپ ﷺ سے کہا: اے اللّٰه کے رسول! کس وجہ سے آپ نے اسے وضو کرنے کا حکم دیا،پھر آپ اس سے خاموش ہو رہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا "یہ شخص اپنا تہ بند لٹکا کر نماز پڑھ رہا تھا اور اللّٰه تعالیٰ ایسے بندے کی نماز قبول نہیں کرتا جو اپنا تہ بند لٹکا کر نماز پڑھ رہا ہو۔"

تخریج

  • سنن أبي داود رقم الحدیث 638

تحقیق

اس کی سند میں ابو جعفر المؤذن ایک راوی ہے جس کی وجہ سے بعض محققین روایت کو ضعیف کہا ہے اور اھل علم و فضل نے اس روایت کو حسن کہا ہے

درج ذیل آئمہ کرام رحمہم اللّٰہ کے نزدیک ابو جعفر المؤذن حسن الحدیث یا صحیح الحدیث راوی ہے

  • امام ترمذی رحمہ اللّٰه
  • امام نووی رحمہ اللّٰه
  • امام ذھبی رحمہ اللّٰه
  • حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللّٰه
  • امام ابن حبان رحمہ اللّٰه
  • علامہ ھیثمی رحمہ اللّٰه

امام ابو حاتم رحمہ اللّٰه کے نزدیک یحیی بن ابی کثیر صرف ثقہ راوی سے ہی روایت کرتا ہے

اس مختلف فیہ روایت کے علاوہ درج ذیل سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللّٰه عنہ کا قول سامنے رکھ لیں

حدثنا علي بن عبد العزيز ثنا حجاج ثنا حماد عن عاصم الأحول عن أبي عثمان النهدي عن ابن مسعود أنه رأى أعرابيا يصلي قد أسبل إزاره فقال المسبل إزاره في الصلاة ليس من اللّٰه عزوجل في حل ولا حرام

[المعجم الکبیر للطبرانی رقم الحدیث 9368]

ترجمہ

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللّٰه عنہ نے ایک اعرابی کو اس حال میں دیکھا کہ اس کی شلوار ٹخنوں سے نیچے تھی اور وہ نماز پڑھ رہا تھا تو انہوں نے فرمایا شلوار ٹخنوں سے نیچے رکھ کر نماز پڑھنے والا اللّٰه عزوجل کے ہاں نہ تو حلال میں ہے اور نہ ہی حرام میں

تنبیہ

حلال وحرام کا مطلب یہ ہے کہ نماز پڑھی نہ پڑھی ایک ہی بات ہے۔

ھذا ما عندی واللّٰه اعلم باالصواب


قدوسی ریسرچ سینٹر