حدیث
حدثنا عبد اللّٰه بن معاوية الجمحي البصري حدثنا عبد العزيز بن مسلم حدثنا أبو ظلال عن أنس بن مالك قال قال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم
من صلى الغداة في جماعة ثم قعد يذكر اللّٰه حتى تطلع الشمس ثم صلى ركعتين كانت له كأجر حجة وعمرة
قال قال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم
تامة تامة تامة
ترجمہ
انس بن مالک رضی اللّٰه عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم نے فرمایا:
جس نے نماز فجر جماعت سے پڑھی پھر بیٹھ کر اللّٰه کا ذکر کرتا رہا یہاں تک کہ سورج نکل گیا، پھر اس نے دو رکعتیں پڑھیں تو اسے ایک حج اور ایک عمرے کا ثواب ملے گا۔
وہ کہتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم نے فرمایا:
پورا پورا پورا (یعنی حج وعمرے کا پورا ثواب)۔
تخریج
- سنن ترمذی رقم الحدیث 586
- الترغیب والترھیب لقوام السنۃ رقم الحدیث 1957
تحقیق
یہ روایت منکر ہے۔
سند میں ابو ظلال راوی پر محدثین کی جرح ہے، تفصیل درج ذیل ہے:
- امام بخاری رحمہ اللّٰه نے کہا: ھلال ابو ظلال القسملی عن انس عندہ مناکیر۔
- امام عقیلی رحمہ اللّٰه نے کہا: ھلال ابو ظلال القسملی عن انس عندہ مناکیر۔ (الضعفاء الکبیر للعقیلی 4/345)
- امام یحیی بن معین رحمہ اللّٰه نے کہا: لیس بشیء۔ (تاریخ ابن معین روایۃ الدوری 4/100)
- ایک مرتبہ کہا: وھو ضعیف۔ (تاریخ روایۃ الدوری 4/243)
- امام ابو حاتم رحمہ اللّٰه نے کہا: ضعیف الحدیث۔ (الجرح والتعدیل لابن ابی حاتم 9/74)
- حافظ ابن حبان رحمہ اللّٰه نے کہا: یروی عن انس ما لیس من حدیثہ لا یجوز الاحتجاج بہ بحال۔ (المجروحین لابن حبان 3/85)
- امام ابن عدی رحمہ اللّٰه نے کہا: عامۃ ما یروی ما لا یتابعہ الثقات علیہ۔ (الکامل لابن عدی 8/426)
- امام ذھبی رحمہ اللّٰه نے اس راوی کو ضعفوہ کہا ہے۔ (المغنی فی الضعفاء للذھبی رقم ترجمہ 7560)
- حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللّٰه نے بھی اس ابو ظلال پر جرح کی ہے اور کہا ہے: ضعیف مشھور۔ (تقریب التھذیب رقم وترجمہ 7349)
- حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللّٰه نے اس روایت کو غریب کہا ہے، مطلب ضعیف۔ (نتائج الافکار 2/301)
خلاصہ
یہ روایت منکر ہے، اس کے شواھد بھی ضعیف ہیں۔
ھذا ما عندی واللّٰه اعلم باالصواب۔
قدوسی ریسرچ سینٹر