افطاری کا وقت دعا کی قبولیت کا وقت ہے؟

9 مارچ، 2026   •   حافظ عبد الخالق قدوسی حفظہ اللّٰه

حدیث

حدثنا أبو كريب قال حدثنا عبد اللّٰه بن نمير عن سعدان القبي عن أبي مجاهد عن أبي مدلة عن أبي هريرة قال قال رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم ثلاثة لا ترد دعوتهم الصائم حتى يفطر ، والإمام العادل ، ودعوة المظلوم يرفعها اللّٰه فوق الغمام ويفتح لها أبواب السماء ويقول الرب وعزتي لأنصرنك ولو بعد حين.

ترجمہ

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللّٰه عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم نے فرمایا تین لوگ ہیں جن کی دعا رد نہیں ہوتی ایک روزہ دار جب تک روزہ نہ کھول لے دوسرا عادل بادشاہ اور تیسرا مظلوم ، اس کی دعا اللّٰه بدلیوں سے اوپر تک پہنچاتا ہے اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور رب کہتا ہے میری عزت کی قسم میں تیری مدد کروں گا بھلے کچھ مدت کے بعد ہی کیوں نہ ہو۔

تخریج

  • سنن ترمذی رقم الحدیث 3598
  • سنن ابن ماجہ رقم الحدیث 1752
  • المنتخب من مسند عبد بن حمید رقم الحدیث 1420
  • صحیح ابن حبان رقم الحدیث 3428
  • مسند ابی داود الطیالسی رقم الحدیث 2707
  • مسند اسحاق بن راھویہ رقم الحدیث 300
  • مسند احمد رقم الحدیث 8043، 9743
  • الدعاء للطبرانی رقم الحدیث 1315
  • الاسماء و الصفات للبیہقی رقم الحدیث 264
  • الدعوات الکبیر للبیہقی رقم الحدیث 650

تحقیق

وسندہ حسن۔

تنبیہ

حدیث میں لفظ حتی یفطر ہے بعض کتب میں حین یفطر ہے مسند البزار وغیرہ میں، بعض اھل علم و فضل کہتے ہیں کہ حین یفطر کے الفاظ محفوظ نہیں ہیں تو گزارش ہے کہ ان الفاظ سے قطع نظر ایسے دلائل ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ افطاری کا وقت قبولیت کا وقت ہے آگے چل کر ایک حسن روایت پیش کرتا ہوں پہلے اس روایت کی تحقیق پڑھ لیں۔

درج ذیل آئمہ کرام کے نزدیک یہ روایت حسن و صحیح ہے:

  • امام ترمذی رحمہ اللّٰه نے اس روایت کو حسن کہا ہے
  • امام ابن حبان رحمہ اللّٰه نے اس روایت کو صحیح کہا ہے
  • امام ابن خزیمہ رحمہ اللّٰه نے بھی اس روایت کو صحیح کہا ہے
  • حافظ ابن ملقن رحمہ اللّٰه نے اس روایت کو صحیح کہا ہے (البدر المنیر لابن الملقن 5/152)
  • امام بغوی رحمہ اللّٰه کے نزدیک بھی یہ روایت حسن ہے (شرح السنہ للبغوی رقم الحدیث 1395)

اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ روایت سنداً حسن ہے۔

بعض نے سند کے راوی ابو مدلہ کو مجھول کہا ہے جو کہ درست نہیں ہے۔

امام ابن حبان رحمہ اللّٰه اور امام ابن ماجہ رحمہ اللّٰه دونوں نے صراحت کے ساتھ ابو مدلہ کو ثقہ کہا ہے، والحمد للّٰہ۔

باقی جن آئمہ محدثین نے اس روایت کو حسن یا صحیح کہا ہے تو یقیناً ان کے نزدیک بھی ابو مدلہ ثقہ حسن الحدیث راوی ہے، والحمد للّٰہ۔

افطاری کا وقت دعا کی قبولیت کا وقت

اب وہ حدیث پڑھ لیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ افطاری کا وقت قبولیت کا وقت ہے:

حدیث

حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْمَدَنِيُّ، قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَبِي مُلَيْكَةَ، يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى اللّٰه عليه وسلم ـ "إِنَّ لِلصَّائِمِ عِنْدَ فِطْرِهِ لَدَعْوَةً مَا تُرَدُّ " قَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو يَقُولُ إِذَا أَفْطَرَ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِرَحْمَتِكَ الَّتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَىْءٍ أَنْ تَغْفِرَ لِي .

ترجمہ

سیدنا عبداللّٰه بن عمرو رضی اللّٰه عنہما سے روایت ہے رسول اللّٰه صلی اللّٰه علیہ وسلم نے فرمایا روزے دار کے لیے روزہ کھولتے وقت ایک دعا ایسی ہوتی ہے جو رد نہیں ہوتی، عبداللّٰه بن ابی ملیکہ رحمہ اللّٰه بیان کرتے ہیں کہ میں نے عبداللّٰه بن عمرو رضی اللّٰه عنہما کو روزہ افطار کرتے وقت یوں کہتے سنا:

اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ بِرَحْمَتِكَ الَّتِي وَسِعَتْ كُلَّ شَىْءٍ أَنْ تَغْفِرَ لِي

اے اللّٰه میں تجھ سے تیری اس رحمت کے واسطے سے سوال کرتا ہوں جس نے ہر چیز کو گھیر رکھا ہے کہ تو میری مغفرت فرما دے۔

تخریج و تحقیق

سنن ابن ماجہ رقم الحدیث 1753 والی یہ روایت حسن ہے، ولید بن مسلم کے سماع مسلسل کی صراحت بھی ہے۔

ھذا ما عندی واللّٰه اعلم باالصواب۔


قدوسی ریسرچ سینٹر