دعاؤں کی کتاب

19 جولائی، 2026   •   حافظ عبد الخالق قدوسی حفظہ اللّٰه

غربت و تنگدستی کی دعا

حدیث

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْفَقْرِ، وَالْقِلَّةِ، وَالذِّلَّةِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ.

ترجمہ

ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ یہ دعا پڑھتے تھے: اللّٰهم إني أعوذ بک من الفقر، والقلة، والذلة، وأعوذ بک من أن أظلم أو أظلم اے اللّٰه! میں فقر، قلت مال اور ذلت سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں کسی پر ظلم کروں یا کوئی مجھ پر ظلم کرے

تخریج الحدیث

  • سنن ابی داود رقم الحدیث 1544
  • سنن نسائی رقم الحدیث 5460
  • مسند احمد رقم الحدیث 8053,8311,8643
  • الادب المفرد للبخاری رقم الحدیث 678
  • مسند البزار البحر الزخار رقم الحدیث 8216
  • السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث 7844
  • صحیح ابن حبان رقم الحدیث 1030
  • الدعاء للطبرانی رقم الحدیث 1341
  • مستدرک حاکم رقم الحدیث 1983
  • الدعوات الکبیر للبیہقی رقم الحدیث 351
  • السنن الکبری للبیہقی رقم الحدیث 13150
  • سیر اعلام النبلاء للذھبی 15/492

تحقیق الحدیث

وسندہ صحیح۔

درج ذیل محدثین نے اس روایت کو صحیح کہا ہے:

  • امام ابن حبان رحمہ اللّٰه
  • امام حاکم رحمہ اللّٰه
  • امام ذھبی رحمہ اللّٰه

تنبیہ: امام ذھبی رحمہ اللّٰه کی تصحیح والا حوالہ سیر اعلام النبلاء ہے، اسنادہ قوی کہا ہے۔


علم نافع اور مقبول عمل کی دعا

حدیث

حدثنا أبو بكر بن أبي شيبة قال حدثنا شبابة قال حدثنا شعبة عن موسى بن أبي عائشة عن مولى لأم سلمة عن أم سلمة أن النبي صلى اللّٰه عليه وسلم كان يقول إذا صلى الصبح حين يسلم: > اللّٰهم إني أسألك علما نافعا ورزقا طيبا وعملا متقبلا

ترجمہ

سیدہ ام المومنین ام سلمہ رضی اللّٰه عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰه علیہ وسلم جب صبح کی نماز سے سلام پھیرتے تو فرماتے تھے ، اللھم انی اسالک علما نافعا ورزقا طیبا وعملا متقبلا ، اے اللّٰه میں تجھ سے فائدہ دینے والے علم ، پاک رزق اور قبول ہونے والے عمل کا سوال کرتا ہوں

تخریج الحدیث

یہ روایت درج ذیل کتابوں میں کئی سندوں سے آتی ہے

  • سنن ابن ماجہ رقم الحدیث 925
  • مسند احمد رقم الحدیث 26521، 26602، 26700، 26731
  • مصنف ابن ابی شیبۃ رقم الحدیث 29265
  • مسند ابی داود الطیالسی رقم الحدیث 1710
  • مسند عبد بن حمید رقم الحدیث 1533
  • السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث 9850
  • عمل الیوم واللیلۃ للنسائی رقم الحدیث 102
  • مسند ابی یعلی الموصلی رقم الحدیث 6930، 6950
  • الدعاء للطبرانی رقم الحدیث 669، 671، 672
  • عمل الیوم واللیلۃ لابن السنی رقم الحدیث 54، 110
  • الدعوات الکبیر للبیہقی رقم الحدیث 119
  • شعب الایمان للبیہقی رقم الحدیث 1645
  • جامع بیان العلم و فضلہ رقم الحدیث 1077

تحقیق الحدیث

وسندہ ضعیف

سند میں مولی ام سلمہ کی جھالت ہے

حافظ بوصیری رحمہ اللّٰه نے بھی یہی جرح کی ہے

مصباح الزجاجہ 1/114

تاریخ بغداد 5/64 پر مولی ام سلمہ کی متابعات، عبداللّٰه بن شداد بن الھاد نے کی ہے لیکن اس سند میں سفیان ثوری کی تدلیس ہے

کبھی موسی بن ابی عائشہ عبد اللّٰه بن شداد کے واسطے کے بغیر ام سلمہ سے روایت کرتا ہے، سند ضعیف ہی ہے

اس کا ایک شاھد بعض نے، الشعبی عن ام سلمہ کے طریق سے پیش کیا ہے، لیکن یہ بھی ضعیف ہے

المعجم الصغیر للطبرانی رقم الحدیث 735

شعبی کا ام سلمہ ثابت نہیں ہے، وسندہ منقطع

امام علی بن مدینی رحمہ اللّٰه نے کہا، شعبی کا ام سلمہ سے سماع نہیں ہے

تھذیب التھذیب 5/68

تنبیہ:

المعجم الاوسط للطبرانی رقم الحدیث 1315 پر درج ذیل الفاظ سے موجود ہے

عن جابر أنه سمع رسول اللّٰه صلى اللّٰه عليه وسلم يقول: اللّٰهم إني أسألك علما نافعا وعملا متقبلا

سیدنا جابر رضی اللّٰه عنہ والی یہ روایت سنداً حسن ہے، الحمد للّٰه۔

باقی ام سلمہ رضی اللّٰه عنہا والی روایت ضعیف ہے۔


بسم اللہ کی دعا

حدیث

حدثنا محمد بن بشار حدثنا أبو داود حدثنا ابن أبي الزناد عن أبيه عن أبان بن عثمان قال سمعت عثمان بن عفان يقول سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ما من عبد يقول في صباح كل يوم ومساء كل ليلة: "بسم الله الذي لا يضر مع اسمه شيء في الأرض ولا في السماء وهو السميع العليم ثلاث مرات فيضره شيء قال وكان أبان قد أصابه طرف من الفالج فجعل الرجل ينظر إليه فقال له أبان ما تنظر إلي أما إن الحديث كما قد حدثتك ولكني لم أقله يومئذ ليمضي الله علي قدره

ترجمہ

حضرت ابان بن عثمان بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان بن عفان رضی الله عنہ سے سنا وہ فرما رہے تھے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے جو بندہ ہر دن کی صبح کو اور ہر رات کی شام کو تین بار یہ دعا پڑھے اسے کوئی چیز نقصان نہیں پہنچائے گی، بسم اللہ الذی لا یضر مع اسمہ شیء فی الارض ولا فی السماء وہو السمیع العلیم، الله کے نام کے ذریعے سے پناہ مانگتا ہوں، جس کے نام کی برکت سے سے زمین وآسمان میں کوئی چیز نقصان نہیں پہنچا سکتی اور وہ خوب سننے والا خوب جاننے والا ہے، راوی کہتے ہیں حضرت ابان رحمہ الله کے جسم پر فالج کا اثر تھا چنانچہ ان سے حدیث سننے والا ، آدمی ان کی طرف تعجب سے ، دیکھنے لگا حضرت ابان رحمہ الله نے فرمایا میری طرف کیا دیکھتے ہو ، حدیث اسی جیسے میں نے تجھے سنائی ہے لیکن اس دن میں نے یہ دعا نہیں پڑھی تھی ، اس طرح الله نے اپنا فیصلہ مجھ پر جاری فرمادیا

تخریج الحدیث

  • سنن ابن ماجہ رقم الحدیث 3869
  • سنن ابی داود رقم الحدیث 5088
  • سنن ترمذی رقم الحدیث 3388
  • السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث 10106
  • عمل الیوم واللیلۃ للنسائی رقم الحدیث 346
  • الکنی والاسماء للدولابی رقم الحدیث 55
  • مسند ابی داود الطیالسی رقم الحدیث 79
  • مسند احمد رقم الحدیث 446,474
  • شرح مشکل الآثار للطحاوی رقم الحدیث 3076
  • المنتقی من کتاب مکارم الاخلاق ومعالیھا رقم الحدیث 463
  • الاسماء و الصفات للبیہقی رقم الحدیث 2
  • لاحادیث المختارۃ رقم الحدیث 310

تحقیق الحدیث

وسندہ حسن

سند کا راوی عبد الرحمن بن ابی الزناد حسن الحدیث ہے، جمهور محدثین نے توثیق کر رکھی ہے، الحمد للّٰه

اس کے علاوہ بھی اس کی اسناد ہیں، مثلاً اور سنن ابی داود کا حوالہ دیا ہے وہ سند بھی حسن ہے

درج ذیل محدثین نے اس روایت کو صحیح کہا ہے:

  • امام ترمذی رحمہ اللّٰه نے کہا: هذا حدیث حسن صحیح غریب 3388
  • امام ابن حبان رحمہ اللّٰه نے اس کو صحیح کہا ہے 852,862
  • امام بغوی رحمہ اللّٰه نے اس روایت کو هذا حدیث حسن، کہا ہے
  • شرح السنہ للبغوی رقم الحدیث 1326
  • حافظ ضیاء الدین المقدسی رحمہ اللّٰه نے اس روایت صحیح کہا ہے، لاحادیث المختارۃ رقم الحدیث 310
  • امام العلل امام دارقطنی رحمہ اللّٰه نے اس روایت پر بحث کرنے کے بعد لکھا ہے: وهذا متصل، وهو احسنها اسنادا
  • علل الدارقطنی رقم الحدیث 254، جلد 3/7,8
  • امام ذھبی رحمہ اللّٰه نے کہا: حدیث صحیح
  • سیر اعلام النبلاء للذھبی 4/352
  • حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللّٰه نے اس روایت کو هذا حدیث حسن کہا ہے
  • نتائج الافکار 2/367

خلاصۃ التحقیق

یہ روایت حسن ہے، الحمد للّٰه