حدیث
حدثنا سعيد بن منصور حدثنا هشيم حدثنا يعلى بن عطاء حدثنا عمارة بن حديد عن صخر الغامدي عن النبي صلى اللّٰه عليه وسلم قال:
اللّٰهم بارك لأمتي في بكورها
وكان إذا بعث سرية أو جيشا بعثهم من أول النهار، وكان صخر رجلا تاجرا، وكان يبعث تجارته من أول النهار فأثرى وكثر ماله.
ترجمہ
سیدنا صخر غامدی رضی اللّٰه عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللّٰه علیہ وسلم نے فرمایا:
اے اللہ! میری امت کے لیے ان کی صبحوں میں برکت ڈال دے۔
چنانچہ آپ صلی اللّٰه علیہ وسلم مہم یا لشکر روانہ کرنا ہوتا تو انہیں دن کے پہلے پہر روانہ فرماتے۔ سیدنا صخر رضی اللّٰه عنہ ایک تاجر صحابی تھے، وہ اپنے کارندوں کو دن کے پہلے پہر روانہ کیا کرتے تھے، چنانچہ وہ مالدار ہو گئے اور ان کا مال خوب بڑھ گیا۔
امام ابو داود رحمہ اللّٰه نے کہا: ان کا نام صخر بن وداعہ ہے۔
تخریج
- سنن ابی داود رقم الحدیث 2606
- سنن ترمذی رقم الحدیث 1212
- سنن ابن ماجہ رقم الحدیث 2236
- سنن دارمی رقم الحدیث 2479
- مسند ابی داود الطیالسی رقم الحدیث 1342
- سنن سعید بن منصور رقم الحدیث 2382
- مسند احمد رقم الحدیث 15438
- مصنف ابن ابی شیبۃ رقم الحدیث 33619
- الآحاد والمثانی لابن ابی عاصم رقم الحدیث 2402
- السنن الکبری للنسائی رقم الحدیث 8782
- صحیح ابن حبان رقم الحدیث 4754، 4755
- السنن الکبری للبیہقی رقم الحدیث 18456
- معجم ابن عساکر رقم الحدیث 42
- شرح السنۃ للبغوی رقم الحدیث 2673
تحقیق
وسندہ حسن۔
سند میں راوی عمارہ بن حدید کی توثیق موجود ہے:
- امام عجلی رحمہ اللّٰه نے ثقہ کہا ہے (الثقات للعجلی 1/353)
- امام ابن حبان رحمہ اللّٰه نے ثقہ تابعین میں ذکر کیا ہے اور روایت بھی لی ہے
اس روایت کو درج ذیل آئمہ کرام رحمہم اللّٰہ نے صحیح یا حسن کہا ہے:
- امام ابن حبان رحمہ اللہ
- امام ترمذی رحمہ اللہ
- حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللّٰه (الاصابہ فی تمییز الصحابہ 3/338)
- امام ذھبی رحمہ اللّٰه (معجم الشیوخ الکبیر 2/119، سیر اعلام النبلاء للذھبی 12/122)
- امام عقیلی رحمہ اللّٰه کئی مقامات پر اس روایت کی تصحیح فرمائی ہے
- حافظ عبد الحق اشبیلی رحمہ اللّٰه (الاحکام الوسطی 3/28)
- الضعفاء الکبیر للعقیلی 1 /236 وغیرہ
تنبیہ: حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللّٰه نے امام ابن خزیمہ رحمہ اللّٰه کی تصحیح ذکر کی جو مجھے ابن خزیمہ رحمہ اللّٰه کی اصل کتاب سے نہیں ملی، واللّٰه اعلم۔
لھذا یہ حدیث حسن ہے، الحمدللہ۔
تنبیہ: ابن جوزی وغیرہ کا ضعف والا حکم مرجوح ہے۔
ھذا ما عندی واللّٰه اعلم باالصواب۔
قدوسی ریسرچ سینٹر